کرکٹ کی معلومات 14

کرکٹ کے بارے میں 12 دلچسپ معلومات جو شاید آپ کو معلوم نہ ہوں

کھیلوں کی دنیا کے دوسرے  بڑے کھیل کے طور پر کرکٹ کی 16ویں صدی سے لے کر موجودہ دور تک ایک بھرپور تاریخ  رہی ہے۔شائقین کو کرکٹ کی معلومات اور اس کھیل سے جڑے ریکارڈز سے ہمیشہ دلچسپی رہی ہے. 

کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ کھیل دنیا بھر کے 180 ممالک میں کھیلا جاتا ہے؟ سب سے مشہور کھیلوں میں سے ایک کے طور پر ہم نے کرکٹ کے بارے میں 12 دلچسپ معلومات کی ایک فہرست جمع کی ہے جو شاید سب سے پرجوش شائقین کو بھی معلوم نہ ہوں!

١. طویل ترین کرکٹ میچ

پہلے زمانے میں برطانیہ میں کچھ ایسے لطیفے گردش کرتے رہتے تھے جو کہ کرکٹ میچز کے طویل ہونے کے بارے میں ہوتے تھے. لیکن ہم میں سے  اکثریت نے 5 روزہ ٹیسٹ میچ دیکھا یا اس کے بارے میں سنا ہے حالانکہ کرکٹ کی تاریخ کا طویل ترین میچ 9 دن تک جاری رہا۔ طویل ترین میچ کا اعزاز 1939 میں انگلینڈ-جنوبی افریقہ ٹیسٹ میچ کو جاتا ہے جو حیران کن 9 دن تک جاری رہا اور پھر بھی واضح فاتح کے بغیر اختتام پذیر ہوا۔ یہ میچ جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں کھیلا گیا.

٢. پہلا کرکٹ ورلڈ کپ انگلینڈ کی خواتین ٹیم نے جیتا تھا

افتتاحی کرکٹ ورلڈ کپ (جسے آج آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ کہا جاتا ہے) 1975 میں منعقد ہوا تھا. لیکن اس سے دو سال پہلے خواتین کا ورلڈ کپ ہوا تھا۔ انگلینڈ کی خواتین کرکٹ ٹیم نے آسٹریلیا کو شکست دے کر یہ ورلڈ کپ جیتا تھا۔

٣. ایک سو گیارہ 111 ایک بدقسمت اسکور

عام طور پہ لگتا یوں ہے کہ 111 رنز کا اسکور حاصل کرنا جشن منانے کی بات ہے. آخر کون ہو گا جو سنچری بنانے کے بعد جشن نہیں مناۓ گا. تاہم بہت سے کرکٹ کھلاڑی – خاص طور پر وہ لوگ جو خاص طور پر توہم پرست ہیں – اس اسکور کو بد قسمتی سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ 111 کرکٹ میں وکٹوں اور اسٹمپس سے مشابہت رکھتا ہے لہذا بہت سے کرکٹرز اس اسکور کو آنے والے کیریئر یا میچوں کے لیے برا شگون سمجھتے ہیں۔ ظاہر ہے اس کی توثیق کبھی نہیں کی گئی کہ کیا واقعی یہ “بد شگون” جیسی کوئی چیز ہے یا نہیں۔ پھر بھی بہت سے کھلاڑیوں کو یہ بہت ڈراونا لگتا ہے.

٤. ٹیسٹ میچ کی پہلی گیند پہ چھکا

ٹیسٹ کرکٹ بین الاقوامی سطح پر اس کھیل کی اعلیٰ ترین سطح ہے. یہ کرکٹ کی ایک مشکل گیم بھی سمجھی جاتی ہے. صرف کچھ ٹیمیں ہی اس سطح پر کھیلنے کے لیے مطلوبہ “ٹیسٹ سٹیٹس” حاصل کرپاتی ہیں۔ عام طور پر ٹیسٹ کرکٹ آہستہ انداز میں کھیلی جاتی ہے. لیکن آج تک صرف ایک ہی بلے باز ٹیسٹ میچ میں پہلی گیند پر چھکا لگانے میں کامیاب ہوا ہے اور وہ ہے ویسٹ انڈیز کا بلے باز کرس گیل۔ کرس گیل نے 2012  میں بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ میچ کی پہلی ہی گیند پر چھکا لگا کر تاریخ رقم کی۔ وہ کھیل کے سب سے طویل فارمیٹ میں منفرد سنگ میل حاصل کرنے والے پہلے بلے باز بن گئے۔ تا ہم کرس گیل 17 گیندوں پر 2 چوکوں اور 2 چھکوں سمیت 24 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہو گے اورویسٹ انڈیزکی ٹیم یہ میچ بھی ہار گئی تھی۔

٥. ٹیسٹ میچز میں سب سے زیادہ کرکٹ  سکور

ٹیسٹ کی تاریخ میں اس وقت سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ بھارتی کرکٹر سچن ٹنڈولکر کے پاس ہے۔ وہ 200 میچوں میں ناقابل یقین 15,921 رنز بنانے میں کامیاب رہے. اس ریکارڈ کی بدولت وہ وکٹ پر ایک ناقابل یقین حد تک مضبوط قوت بن گئے تھے۔ رنرز اپ میں آسٹریلیا کے رکی پونٹنگ شامل ہیں جنہوں نے 13,378 رنز بنائے اور جنوبی افریقہ کے جیک کیلس 13,289 رنز بنانے میں کامیاب رہے۔ جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ  ٹنڈولکر ان دونوں کھلاڑیوں سے کافی اوپر ہیں اس لیے ان کا نام ہمیشہ روشن رہے گا.

٦. کرکٹ اوراولمپک گیمز

ہم اکثر سوچتے ہیں کہ دنیا میں کھیلوں کے سب سے بڑے ایونٹ اولمپک گیمز میں کرکٹ جیسا اہم کھیل کیوں شامل نہیں. لیکن تاریخ میں ایک بار ایسا ہو چکا ہے۔ 1900 کے اولمپک کھیلوں میں کرکٹ کو شامل کیا گیا تھا. اصل میں 1896 کے کھیلوں میں اسے شامل ہونا تھا لیکن شائقین کی دلچسپی کی کمی کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا. 1900 کے اولمپکس کے لیے چار ممالک نے اپنی ٹیمیں میدان میں اتارنا تھیں لیکن صرف دو ممالک نے ہی اپنی ٹیمیں میدان میں اتاریں. ایک برطانیہ جو اس مقابلے کی میزبانی کر رہا تھا اور دوسرا فرانس۔ فرانس کمزور تھا اس لیے انگلینڈ جیت گیا۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی کوشش ہے کہ 2028 میں لاس اینجلس میں منعقد ہونے والے اولمپک گیمز میں کرکٹ کے کھیل کو شامل کرایا جاۓ.

7. کرکٹ کے قوانین

یہ واضح نہیں ہے کہ کرکٹ کے قوانین یا بنیادی اصول اصل میں کب بنائے گئے تھے۔ تا ہم 1728 میں ڈیوک آف رچمنڈ اور ایلن بروڈک نے ایک مخصوص کھیل میں ضابطہ اخلاق کا تعین کرنے کے لیے معاہدے کے مضامین تیار کیے. 1744 میں کرکٹ کے قوانین کو پہلی بار مرتب کیا گیا اور پھر 1774 میں اس میں ترامیم کی گئیں جب ایل بی ڈبلیو، مڈل اسٹمپ اور بیٹ کی زیادہ سے زیادہ چوڑائی جیسی اختراعات شامل کی گئیں۔ ان قوانین میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دو امپائروں کا انتخاب کیا جاۓ گا جو تمام تنازعات کا مکمل فیصلہ کریں گے۔ 1787 میں لارڈز میں میریلیبون کرکٹ کلب کی بنیاد رکھی. یہ کلب فوری طور پر کرکٹ قوانین کا نگہبان بن گیا اور اس نے بعد میں وقتاً فوقتاً ترمیمات کیں۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کا قیام بنیادی طور پر 1909 میں کیا گیا تا ہم تب اس کا نام مختلف تھا. آئی سی سی کا موجودہ نام 1987 میں رکھا گیا تھا.

8. ایک اوور میں 77  رنز

ہم سب یہ جانتے ہیں کہ ایک اوور میں زیادہ سے زیادہ 36 رنز سکور کیے جا سکتے ہیں. تا ہم فرسٹ کلاس کرکٹ میں ایک اوور میں زیادہ سے زیادہ 77 رنز سکور کیے گئے. یہ واقعہ فروری ١٩٩٠ میں پیش آیا جب نیوزی لینڈ کے ایک فرسٹ کلاس کرکٹ میچ میں بولر برٹ ونس نے جان بوجھ کے فل ٹاس 17 نو بال پھینکیں جن پر بلے بازوں نے چھکے چوکے لگا کے برابر ہوتا ٹیسٹ میچ جیت لیا.

سنیل گواسکر کے 174 گیندوں پہ 36 رنز

1975 کے پروڈینشل ورلڈ کپ میں بھارت اور انگلینڈ کے درمیان میچ میں انگلینڈ نے 60 اوورز میں 335 رنز کا ہدف دیا۔ بھارت کی جانب سے جوابی بیٹنگ میں بلے باز سنیل گواسکر نے پوری اننگز میں بیٹنگ کی اور 174 گیندوں پر صرف 36 رنز بنائے۔ بھارت مقررہ 60 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر صرف 132 رنز بنا سکا اور میچ ہار گیا.

١٠. انضمام الحق کے کیریئر کی پہلی بال پہ وکٹ

انضمام الحق پاکستان کے مایا ناز بلے باز رہے ہیں. ہم نے انھیں ہمیشہ بلے بازی کرتے ہوئے دیکھا. تاہم انضمام نے بولنگ بھی کرائی. مگر زیادہ اہم بات یہ کہ انھوں نے اپنے کیریئر کی پہلی ہی بال پہ وکٹ حاصل کی. اس سے بھی اہم بات یہ کے یہ وکٹ کسی عام کھلاڑی کی نہیں بلکہ ویسٹ انڈیز کے مشہور و معروف بلے باز برائن لارا کی تھی. انہوں نے 1991 میں اقبال اسٹیڈیم فیصل آباد میں برائن لارا کو اپنے ون ڈے کیریئر کی پہلی ہی گیند پر 45 رنز پر آؤٹ کیا۔

١١. کرکٹ صرف ایک کھیل نہیں

بیشک ہم کرکٹ کو ایک کھیل کے طور پہ ہی جانتے ہیں. لیکن یہ گیم اس سے بڑھ کے ہے. کرکٹ کو رائل گیم بھی کہا جاتا ہے. اس کی وجہ یہ کہ لمبے عرصے تک کرکٹ انگلینڈ کی رائل فیملیز کے نوجوان ہی کھیلتے تھے. شاید اس لیے بھی کہ یہ ایک مہنگا کھیل ہے جس کے لیے وسائل کی بھی ضرورت پڑتی تھی. لیکن اس کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے وہ یہ کہ کرکٹ واحد گیم ہے جس میں فیصلہ سازی کا بہت زیادہ کردار ہے. رائل فیملیز کے نوجوانوں کو کرکٹ اس لیے بھی کھیلای جاتی تھی تا کہ ان میں قائدانہ صلاحیت اجاگر ہو اور ان میں فیصلہ سازی کی قوت بڑھے. ٹیسٹ میچ لمبے ہونے کی بھی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ حالات میں تغیر کے مطابق فیصلہ سازی کا عمل چلتا رہے. اس کے علاوہ کرکٹ کا کھیل سخت محنت، جسمانی طاقت، برداشت، دباؤ کا سامنا کرنا، آخری دم تک لڑنا اور مشکل حالات میں ابھرنے کی قوت کو بھی بڑھاتا ہے. خاص طور پر کرکٹ میں کپتان کا کردار باقی کھیلوں کی نسبت بہت وسیع ہے جب وہ عموما ایک لیڈر کا کردار ادا کر رہا ہوتا ہے. اس لیے اپنے بچوں کو کرکٹ کھیلنے پہ راغب کرنا ان کی بہتر جسمانی اور ذہنی نشونما میں مددگارثابت ہوتا ہے.

12. سر ڈان بریڈ مین اور 6 چھکے

کرکٹ کا کھیل بلاشبہ بہت تیز ہو چکا ہے. آج کے دور میں ہم زیادہ چوکے چھکے لگانے والے کرکٹرز کو بہت سراہتے ہیں. لیکن کرکٹ کی سائنس کو سمجھنے والے ٹیسٹ کرکٹ کو ہی اصل کرکٹ کہتے ہے. کرکٹ لیجنڈ سر ڈان بریڈمین نے اپنے 52 میچوں کے ٹیسٹ کیریئر میں صرف چھ چھکے لگائے اور اپنے 234 فرسٹ کلاس میچوں میں کوئی چھکا نہیں لگایا۔ ان آسٹریلوی لیجنڈ کو جن کا کیریئر ٹیسٹ اوسط 99.94 ہے وسیع پیمانے پر اب تک کا عظیم ترین بلے باز سمجھا جاتا ہے۔ انگلینڈ کے خلاف پانچ چھکوں اور ہندوستان کے خلاف ایک چھکے کے علاوہ سر بریڈمین نے اپنے کیریئر میں 618 چوکے لگائے۔

مزید پڑھیں

زمین کے بارے میں 9 دلچسپ حقائق

اپنا تبصرہ بھیجیں