چاند کی تاریخ

چاند کی تاریخ اور اس کے بارے میں 11 دلچسپ حقائق۔

چاند ایک فلکیاتی جسم ہے جو ہمارے سیارے یعنی زمین کے گرد چکر لگاتا ہے. چاند ہمارے واحد مستقل قدرتی سیٹلائٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔ چونکہ دوسرے سیاروں کے اپنے چاند بھی موجود ہیں تو ہمارا چاند نظام شمسی کا پانچواں سب سے بڑا سیٹلائٹ ہے۔ چاند کی تاریخ کے بارے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اس وقت بنا تھا جب تقریباً 4.5 بلین سال قبل نظام شمسی کی تشکیل شروع ہونے کے فوراً بعد ایک بہت بڑی چٹان زمین سے ٹکرا گئی تھی۔ یہ زمین سے 384,400 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

چاند بہت خوبصورت نظر آتا ہے اور یہ ہمیں رات کے وقت روشنی بھی دیتا ہے. ہم بچپن سے ہی چاند کو بہت شوق سے دیکھتے ہیں اور اسے چھونا چاہتے ہیں. زمین کے باشندوں نے اپنے خوبصورت چاند کے حوالے سے بہت سی کہانیاں بھی تشکیل دے رکھی ہیں. یہ کہانیاں اپنے آپ میں بہت مزیدار ہوتی ہیں اور بچوں کو بہلانے اور سلانے کے کام آتی ہیں. لیکن ہم میں سے زیادہ تر افراد کو چاند کے بارے میں اصل حقائق کا کم ہی علم ہوتا ہے.

آرٹیکل: زمین کے بارے میں 9 دلچسپ حقائق

چاند خلا میں سب سے زیادہ پراسرار اشیاء میں سے ایک ہے اور قدیم زمانے سے ہی اس نے انسانی ذہنوں کو مسحور کر رکھا ہے۔  یہ زمین کا واحد قدرتی سیٹلائٹ ہے اور یہ ہمیں اپنے سیارے پر زندگی دینے میں مدد کرتا ہے۔   تو آیں چاند کے بارے میں دلچسپ حقائق کا جائزہ لیتے ہیں جو شاید آپ کو معلوم نہیں ہوں گے۔

نوٹ: یہ معلومات سطحی نوعیت کی ہیں جو کہ عام افراد کی دلچسپی کے لیے شائع کی گئی ہیں. ان کو تحقیقی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا. 

١. چاند سیارہ نہیں بلکہ ایک سیٹلائٹ ہے اور یہ زمین کے گرد چکر لگاتا ہے۔ سیارہ بڑے ستارے کے گرد گھومتا ہے جبکہ ایک سیٹلائٹ سیارے کے گرد گھومتا ہے اور ستارے کی روشنی کو بھی منعکس کرتا ہے۔ چاند زمین سے تقریباً 384,400 کلومیٹر دور ہے اور اس کی عمر 4.5 بلین سال بتائی جاتی ہے۔ چاند چٹانوں اور آکسیجن، سلیکان اور آئرن سمیت دیگر مواد سے بنا ہے اور اس کی سطح گڑھوں سے ڈھکی ہوئی ہے۔

٢. چاند کے پاس نہ کوئی ماحول  (atmosphere) ہے اور نہ کوئی مائع پانی، پھر     بھی اس کا اپنا گرویٹیشنل فیلڈ ہے جس کی وجہ سے اس میں لہریں آتی ہیں۔  اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ہمارے سیارے یعنی زمین پر پانی کے بہاؤ کو متاثر کرتا ہے اور سمندروں کو لہراتا ہے۔

٣. چاند کی گردش اور مدار دونوں زمین کے ساتھ مطابقت پذیر ہیں۔  یہی وجہ ہے کہ ہم ہمیشہ زمین سے چاند کا ایک ہی رخ دیکھتے ہیں۔  چاند کی دوسری طرف کو ‘دور کی طرف’ کہا جاتا ہے جو اپنی ہم آہنگی کی گردش کی وجہ سے زمین سے کبھی نظر نہیں آتا۔

٤. 1969 میں جب سے انسان نے پہلی بار چاند پر قدم رکھا اس کے بعد چاند کی سطح کو دریافت کرنے کے لیے چھ مزید مشن شروع کیے گئے تھے. تا ہم امریکہ نے 1972 میں چاند پہ مشن بھیجنے کا پروگرام روک دیا تھا جو آج تک بحال نہیں کیا گیا.

٥. چاند کی سطح پر ایک کھرب سے زیادہ گڑھے ہیں جو اس سے ٹکرانے والے Asteroid اور دیگر خلائی اجسام کی وجہ سے بن گئے ہیں۔ ان میں سے کچھ 1,000 فٹ سے بھی زیادہ چوڑے ہیں۔

٦. ماحول نہ ہونے کی وجہ سے چاند کا اپنا کوئی موسم نہیں ہے۔ اگرچہ زمین کا موسم اور ماحول درجہ حرارت کے لحاظ سے چاند کی سطح کو متاثر کر سکتا ہے، لیکن اس میں بادل، بارش، ہوا یا برف نہیں ہے۔

٧. چاند زمین کے گرد چکر لگانے والا واحد قدرتی جسم نہیں ہے۔  بہت سے دوسرے اوبجیکٹس بھی ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی چاند جتنا دلچسپ نہیں ہے. اس لیے چاند کو ہی زمین کا واحد قدرتی سیٹلائٹ جانا جاتا ہے. البتہ انسان کے بناۓ مصنوعی سیٹلائٹ کافی تعداد میں زمین کے گرد گردش کرتے ہیں.

٨. سائنس کے مطابق چاند اس وقت بنا جب مریخ سے بڑی چیز اربوں سال پہلے زمین سے ٹکرا گئی تھی. یہی وجہ ہے کہ چاند اور زمین دونوں کی ساخت اور کیمیائی ساخت ایک جیسی ہے۔

 ٩.  چاند پر انسانی قدموں کا نشان آج بھی نظر آتا ہے۔  ‘نیل آرمسٹرانگ’ اور ‘ایڈون بز ایلڈرین’ کے بوٹ پرنٹس 50 سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود آج تک چاند پر موجود ہیں۔   اس کے علاوہ گاڑھے گئے 6 امریکی جھنڈوں میں سے 5 جھنڈے بھی آج تک موجود ہیں.

١٠. ‏روس اور کینیڈا کے درمیان قطب شمالی میں آرکٹک اوقیانوس کے قریب زمین کا چکر لگاتے ہوئے ، چاند زمین کے اتنے قریب آتا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ زمین سے ٹکرا جائے گا۔ چاند اس چکر کو صرف 30 سیکنڈ میں مکمل کرتا ہے اور 5 سیکنڈ تک سورج کو فورا غائب ہونے سے پہلے ڈھانپ لیتا ہے .

یہ منظر دیکھیں

١١. چاند میں ہیلیم 3 کی بڑی مقدار ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے، یہ ایک نادر عنصر ہے جو زمین پہ تقریبا ناپید ہے. یہ گیس مستقبل میں توانائی کا ایک ممکنہ ذریعہ ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں

کرکٹ کی معلومات – 12 دلچسپ حقائق جو شاید آپ کو معلوم نہ ہوں

اپنا تبصرہ بھیجیں