earth zameen زمین

زمین کے بارے میں 9 دلچسپ حقائق

١. زمین چپٹی ہے اور نہ بلکل گول

زمین کبھی بھی بالکل گول نہیں رہی۔ قطب شمالی سے جنوبی تک زمین کا قطر 12,714 کلومیٹر (7,900 میل) ہے جبکہ خط استوا کے ذریعے یہ 12,756 کلومیٹر (7,926 میل) ہے۔ 42.78 کلومیٹر (26.58 میل) کا فرق زمین کے قطر کا تقریباً  1/300  واں حصّہ بنتا ہے۔ یہ تغیر خلا سے زمین کی تصاویر میں دیکھنے کے لیے بہت چھوٹا ہے. اس لیے یہ سیارہ انسانی آنکھ کے سامنے گول دکھائی دیتا ہے۔ ناسا کی حالیہ تحقیق بتاتی ہے کہ گلیشیئر پگھلنے سے زمین کی کمر پھیل رہی ہے۔

٢. دن لمبے ہوتے جا رہے ہیں

زمین پہ دن کی طوالت بڑھ رہی ہے۔ جب زمین 4.6 بلین سال پہلے بنی تھی تو اس کا دن تقریباً چھ گھنٹے کا ہوتا تھا۔ 620 ملین سال پہلے تک یہ 21.9 گھنٹے تک بڑھ گیا تھا۔ آج اوسط دن 24 گھنٹے طویل ہے لیکن ہر صدی میں دن کی طوالت میں تقریبا ایک عشاریہ سات  ملی سیکنڈ کا اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کی وجہ چاند ہے جو کہ سمندری لہریں پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے. زمین کا گھماؤسمندری لہروں کی پوزیشن کو چاند اورزمین کے محور سے تھوڑا آگے کھینچنے کا سبب بنتا ہے جس سے ایک گھماؤ والی قوت پیدا ہوتی ہے جو زمین کی گردش کو کم کرتی ہے۔ نتیجتاً ہمارا دن لمبا ہوتا جا رہا ہے. لیکن اتنا لمبا نہیں کہ یہ ہمیں محسوس ہو اور ہمارے مصروف شیڈول میں کوئی فرق ڈال سکے۔

 اہم:  اردو آرٹیکل لکھیں

٣. ہمیشہ سے  7 براعظم نہیں رہے

زمین کے براعظموں کا ایک دوسرے  سے تعلق رہا ہے جو لاکھوں سالوں سے جاری ہے۔ تقریباً 800 ملین سال پہلے عظیم ٹیکٹونک پلیٹیں اکٹھی ہو گئیں جس سے ایک سپر براعظم تشکیل پایا جسے روڈینیا کہتے ہیں۔ روڈینیا بالآخر بہت سے ٹکڑوں میں ٹوٹ گیا. تقریباً 250 ملین سال پہلے براعظم ایک بار پھر اکٹھے ہو گئے جس کے نتیجے میں ایک اور سپر براعظم بنا جس کو Pangaea  کہا جاتا ہے. اس سپر بر اعظم  کے چاروں طرف ایک ہی سمندر تھا۔ پچاس ملین سال بعد  Pangea ٹوٹنا شروع ہوا۔ یہ دو بڑے زمینی حصّوں میں تقسیم ہو گیا جو بالآخر ان براعظموں میں بکھر گئے جنہیں ہم آج جانتے ہیں۔

٤. زمین کے برفانی اوقات

تقریباً 600-800 ملین سال پہلے زمین پہ کئی انتہائی موسمیاتی تبدیلیاں وقوع پزیر ہویں جنہیں برفانی دور کہا جاتا ہے۔ آب و ہوا اتنی سرد ہو گئی کہ کچھ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ زمین تقریباً یا مکمل طور پر کئی بار برف سے جم گئی۔ اسے “سنو بال ارتھ” تھیوری کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کچھ اندازوں کے مطابق منجمد ہونے اور پگھلنے کے ایسے چار ادوار ہوئے ہیں جو گرین ہاؤس گیسوں جیسے میتھین اور کاربن ڈائی آکسائیڈ میں کمی سے شروع ہوئے. اس دوران زمین قطب سے قطب تک برفانی برف سے ڈھک چکی ہوئی ہوگی۔ چونکہ سورج کی زیادہ تر توانائی برف کے ذریعے واپس خلا میں منعکس ہوتی ہے اس لیے زمینی سیارے کا اوسط درجہ حرارت تقریباً 50 ڈگری سیلسیس (74 ڈگری فارن ہائیٹ) تک رہا ہو گا. خوش قسمتی سے ہم اتنی سخت سردی محسوس کرنے کے لیے موجود نہیں تھے کیونکہ اس وقت صرف خوردبینی جاندار موجود تھے۔

٥. زمین کی خشک ترین جگہ سمندر کے پاس

دنیا کی خشک ترین جگہ شمالی چلی میں واقع صحرائے اٹاکاما ہے. لیکن دلچسپ بات یہ کہ یہ جگہ پانی کے سب سے بڑے ذخیرے بحرالکاہل کے قریب واقع ہے۔ چلی میں اس علاقے میں اوسط سالانہ بارش صرف 0.8 ملی میٹر (0.03 انچ) ہے۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اٹاکاما کے کالاما شہر میں 1972 میں اچانک طوفان  آنے سے پہلے تقریبا 400 سال تک بارش نہیں ہوئی تھی۔ ایک اور دلچسپ بات یہ کہ اس سب کے باوجود زیادہ تر صحراؤں کے برعکس اٹاکاما نسبتاً ٹھنڈا ہے.

٦. زمین کی کشش ثقل یکساں نہیں ہے

اگر زمین ایک کامل کرہ ہوتی تو اس کی کشش ثقل کا میدان ہر جگہ ایک جیسا ہوتا۔ لیکن حقیقت میں سیارے کی سطح ایک جیسی نہیں ہے. پانی کا بہاؤ، برف کا بہاؤ اور زمین کی پرت کے نیچے ٹیکٹونک پلیٹوں کی نقل و حرکت سبھی کشش ثقل کی قوت کو بدل دیتے ہیں۔ ان تغیرات کو کشش ثقل کی بے ضابطگیوں کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ایک پہاڑی سلسلہ جیسے کہ ہمالیہ ایک مثبت کشش ثقل کا سبب بنتا ہے – وہاں کشش ثقل اس سے کہیں زیادہ مضبوط ہے جو کہ کسی خصوصیت کے بغیر بالکل ہموار سیارے پر ہوگی۔ اس کے برعکس سمندری خندقوں کی موجودگی منفی کشش ثقل کی بے ضابطگیوں کا باعث بنتی ہے۔ NASA کا GRACE  (کشش ثقل کی بحالی اور موسمیاتی تجربہ) مشن زمین کی کشش ثقل کا تفصیل سے نقشہ بنا رہا ہوتا ہے۔

٧. ماضی میں سمندر کی سطح بہت مختلف تھی

کرہ ارض پر برف کی تازہ ترین پیش قدمی تقریباً 70,000 سال پہلے شروع ہوئی 11,500 سال پہلے ختم ہوئی. اس وقت کے دوران گلیشیئرز اور برف کی چادروں نے عظیم جھیلوں اور دریاؤں کو روک دیا جس سے مسیسیپی جیسے بڑے دریاؤں کا رخ مڑ گیا. اتنا پانی برف کی طرح جم گیا کہ سمندر کی سطح 120 میٹر تک گر گئی۔ ماضی میں زمین کی سطح سمندر 70 میٹر (230 فٹ) تک بلند بھی رہی ہے۔ گزشتہ بین البرقی دور کے دوران سمندر درحقیقت آج کے مقابلے میں 5 سے 7 میٹر (16 سے 23 فٹ) اونچا تھا۔

٨. ہمارے سورج کی بھوک بہت زیادہ ہے

جیسے ہی سورج اپنی ہائیڈروجن کی سپلائی کو ختم کرے گا یہ بالآخر ایک سرخ دیو میں بدل جائے گا جو 100 گنا بڑا اور 2,000 گنا زیادہ چمکدار ہو گا. اس عمل میں سورج زمین کو کھا جاۓ گا یعنی  بخارات بنا دے گا۔ لیکن فکر مت کریں یہ تقریباً پانچ ارب سال تک نہیں ہو گا۔ ایک آپشن یہ ہے کہ ایسا ہونے سے پہلے کرہ ارض کو چھوڑ دیا جائے لیکن اس کے لیے ابھی تک غیر تصوراتی ٹیکنالوجی اور قابل رہائش منزل کی ضرورت ہوگی۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ اگلے چند ارب سالوں میں ایک گزرتا ہوا ستارہ زمین کے مدار میں خلل ڈال دے اور اسے سورج سے دور کر دے۔ سائنسدانوں نے تجویز کیا ہے کہ اس کا امکان بہت مشکل یعنی 100,000/ 1 ہے. بدقسمتی سے سورج کے بغیر اس وقت کے انسان شاید جم کر موت کے منہ میں چلے جائیں۔

٩. چاند زمین کا واحد ساتھی نہیں ہے

زمین کے قریب دو دیگر اجسام بھی گردش کر رہے ہیں جنہیں بعض اوقات چاند بھی کہا جاتا ہے لیکن ان کی اہمیت اتنی نہیں ہے کہ انھیں عنوان دیا جاۓ۔ 1986 میں دریافت کیا گیا 3753 Cruithne ایک سیارچہ ہے جو دراصل سورج کے گرد چکر لگاتا ہے۔ چونکہ اسے سورج کے گرد چکر لگانے میں زمین جتنا وقت لگتا ہے، اس لیے ایسا لگتا ہے جیسے کروتھن ہمارے سیارے کا پیچھا کر رہا ہے۔ ایک اور سیارچہ 2002 AA29 بھی سال میں ایک بار سورج کے گرد چکر لگاتا ہے. یہ کچھ عجیب و غریب راستے اپناتا ہے جو اسے ہر 95 سال بعد زمین کے قریب (5.9 ملین کلومیٹر یا 3.7 ملین میل کے اندر) لے آتا ہے۔ ہمارے قریب ہونےکی وجہ سے سائنسدان  AA29 سے نمونے جمع کرنے اور انہیں زمین پر لانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

نوٹ: یہ معلومات سطحی نوعیت کی ہیں جو کہ عام افراد کی دلچسپی کے لیے شائع کی گئی ہیں. ان کو تحقیقی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا. 

مزید پڑھیں

روایت پسندی سے ڈیجیٹلائزیشن کا سفر

اپنا تبصرہ بھیجیں