types of investors 34

سرمایا کاروں کی قسمیں

اگر آپ سچے سرمایہ کار ہیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ مارکیٹیں اوپر جارہی ہیں یا نیچے آرہی ہیں۔ ایک سچا سرمایہ کارمارکیٹ کی کسی بھی حالت میں اچھا کام کرتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں آپ کی کامیابی کا دارومدار مارکیٹ پر نہیں بلکہ آپ پر ہے۔ اکثر سرمایا کاروں کی ناکامی کی وجہ مارکیٹس کے حالت نہیں بلکے ناکامی کی وجوہات مختلف ہوتی ہیں. 

کامیابی یا ناکامی اوردولت یا غربت مکمل طور پر اس بات پہ انحصار کرتی ہے کہ سرمایہ کار کتنا ہوشیار ہے یعنی آپ کس سطح کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ جیسے کہ ایک ہوشیار سرمایہ کار اسٹاک مارکیٹ میں لاکھوں کمائے گا۔ جبکہ ایک شوقیہ سرمایا کارلاکھوں کا نقصان کرے گا۔

آپ کس سطح کے سرمایہ کار ہیں؟

ذیل میں سرمایہ کاروں کے پانچ درجے بیان کیے گئےہیں۔ اگر آپ  پڑھے لکھے ہیں، بہت محنت کرتے ہیں اور اچھی آمدنی کماتے ہیں تاہم پیسے کے بارے میں روایتی خیالات رکھتے ہیں. تواس کے نتیجے میں آپ کی ساری زندگی مالی جدوجہد میں گزرے گی. آپ کا شمار سرمایہ کاروں کے پہلے دو درجوں میں ہو گا۔

اس کے برعکس اگر آپ کے پاس کالج کی ڈگری بھی نہیں اور  آپ سخت محنت بھی کر رہے ہیں. لیکن اگر آپ عمدہ مالی ذہنیت رکھتے ہیں اور پیسے کے بارے میں بہت مختلف انداز میں سوچتے ہیں تو جلد دولت مند بن سکتے ہیں. ایسے افراد عموما چوتھے اور پانچویں درجے کے سرمایہ کار بنتے ہیں۔

آپ کچھ وقت نکالیں اور سوچیں. اپنے ساتھ ایماندار رہیں اور یہ طے کریں کہ آپ کس سرمایہ کار کی سطح پر ہیں۔ اس سے پہلے کہ آپ اپنے خوابوں تک پہنچ سکیں آپ کو اپنے ساتھ مکمل ایماندار ہونا پڑے گا تا کہ آپ اپنا سفر صحیح مقام سے شروع کر سکیں۔

پہلا درجہ – نوسکھئیے سرمایہ کار

اگر آپ کی ویلتھ سٹیٹمنٹ میں اثاثوں کا خانہ خالی ہے اور اس میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس میں آپ کی سرمایہ کاری سے کوئی آمدنی پیدا ہو رہی ہو. اس کے علاوہ آپ کی بہت زیادہ ذمہ داریاں ہیں تو آپ نچلی سطح یعنی گراؤنڈ زیرو سے شروع کر رہے ہیں۔ اگر آپ گہرے قرضوں میں ڈوبے ہوئے ہیں تو ابھی آپ کی بہترین سرمایہ کاری قرض سے نکلنا ہی ہو سکتی ہے۔

یاد رکھیں قرض میں ڈوبے  ہونے میں کوئی حرج نہیں. مسلہ تب ہو گا جب آپ اس قرض سے خلاصی کے لئے کچھ کر نہیں رہے ہوں گے۔ دنیا میں صرف آپ ہی نہیں جو قرض میں ڈوبے ہیں. بیشمارلوگ  کئی وجوہات کی بنا پر قرض میں ڈوب جاتے ہیں. لیکن اگر ان میں قرض سے خلاصی کا جذبہ ہو تو بیشک کئی سال لگ جایں وہ اس سے نکل آتے ہیں. اس حوالے سے بہت سے طریقوں سے اپنی غلطیوں سے سیکھنا اور اپنی غلطیوں کی ذمہ داری لینا بہترین تعلیم اوراقدام ہے ۔ اگر آپ جن غلطیوں کی وجہ سے قرض میں ڈوبے ان کو دہرایں گے اور اپنی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھیں گے تو آپ نہ تو قرض کے چکر سے نکل پائیں گے اور نہ ہی ترقی کی منازل طے کر پائیں گے۔

اس سطح پر آپ کو عموما پیسے اور سرمایہ کاری کے بارے میں کم علم ہوتا ہے۔ اس سطح پر سب سے بڑی سرمایہ کاری قرض سے خلاصی کی کوشش اوراپنی مالی تعلیم میں سرمایہ کاری شروع کرنا ہے۔ کتابیں پڑھیں ، لیکچرز میں شرکت کریں ، کاروبار اور معیشت کی خبروں میں دلچسپی لیں، کوچز اور اساتذہ تلاش کریں۔

دوسرا درجہ – جمع کرنے والے سرمایاکار

زیادہ تر لوگوں کو بچپن سے ہی ایک غلط سبق پڑھا دیا گیا ہے. انھیں یہ سکھایا گیا ہے کہ مالی طور پر ذمہ دار ہونے کا مطلب پیسہ بچانے والا اور جمع کرنے والا ہے۔ اگر آپ پیسہ بچانے والے ہیں تو آپ درجہ دوم کے سرمایہ کار ہیں۔ پیسہ بچانے والے کے طور پر آپ کو بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے  خاص طور پر اگر آپ بینک سیونگ میں یا ریٹائرمنٹ پلان میں پیسے بچا رہے ہیں۔ عام طور پر پیسہ جمع کرنے والے اور بچانے والے نقصان اٹھانے والے ہوتے ہیں۔ کیوں کہ بچت اکثر ان لوگوں کے لیے اچھی حکمت عملی ہوتی ہے جو کچھ سیکھنا نہیں چاہتے۔ پیسہ بچانے کے لیے کوئی مالی ذہانت نہیں لگتی اور پیسہ بچانےکی تربیت بہت آسانی سے کوئی بھی لے سکتا ہے۔

بچت میں خطرہ یہ ہے کہ آپ کم سیکھیں گے۔ اور اگر آپ کی بچت ختم ہو جاتی ہے یا پیسے کی کی قدر میں کمی آ جاتی ہے تو اس کے ساتھ  آپ بھی بغیرکچھ سیکھے سمجھے  ختم ہو جاتے ہیں۔

اگرچہ یہ سچ ہے کہ بچانے والے بعض اوقات اپنے پیسوں پر منافع یا سود سے لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن خالص شرح سود عموما خود ہی افراط زر کی شرح کے مطابق یا اس سے کم رہتی ہے۔ لہذا پیسہ بچانے اور جمع کرنا بنیادی طور پر ہارنے والوں کا کھیل ہے۔ اس لئے اگر آپ بچانے والے ہیں تو ہماری تجویز ہے کہ سرمایہ کاری کے گرسمجھنے کے لیے کچھ کورس کریں. اس کہ علاوہ اسٹاک مارکیٹ یا رئیل اسٹیٹ میں دیکھیں کہ کیا آپ کو کوئی دلچسپی ہے۔ اگر آپ کو کچھ بھی دلچسپی نہیں ہے تو پھر بچاتے رہیں اور دعا کرتے رہیں۔

تیسرا درجہ – شوقیہ سرمایا کار

یہ تقریبا دوسرے درجے کی سطح کے سرمایا کار ہوتے ہیں. لیکن یہ خطرہ مول لیتے ہیں. مگر جو خطرہ یہ مول لے رہے ہوتے ہیں اس کی ان کو خاص سمجھ نہیں ہوتی. جیسے کہ اسٹاک مارکیٹ، بانڈز ، میوچل فنڈز ، اورانشورنس فنڈز میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔

ایسی سرمایا کاری ہے تو بہترین. لیکن یہ سرمایا کار واقعتا نہیں جانتے کہ کہاں یا کیسے سرمایہ کاری کی جائے۔ لہذا یہ مالیاتی مشیروں کی راۓ پہ چلتے ہیں جو کہ مالیاتی اداروں  کے لیے صرف ایک سیلز پرسن کے طور پر کام کر رہے ہوتے ہیں. شوقیہ سرمایہ کار مالی طور پر غیر تعلیم یافتہ ہوتے ہیں اور ہمیشہ دوسرے لوگوں کو تلاش کرتے ہیں کہ وہ بتائیں کہ کس چیز میں سرمایہ کاری کرنی ہے۔ وہ بہتر سرمایا کار بننے کے لئےاپنی خود کی تعلیم میں سرمایہ کاری میں بہت کم دلچسپی رکھتے ہیں۔ جب بھی مالی معاملات کی بات آتی ہے تو وہ بہت کم جانتے ہوتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ انہیں دوسرے نام نہاد ماہرین کے مشورے پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

سرمایہ کاری کے تیسرے درجے میں خطرہ یہ ہے کہ اگر معیشت کریش ہو جائے تو سرمایہ کار اپنا سب کچھ کھو دیتا ہے اور کچھ بھی سیکھ نہیں پاتا۔ کیوں کہ سرمایہ کار کے پاس موجود تقریبا ہر چیز کاغذی اثاثہ ہوتی ہےاور چونکہ ان کے مشیر ان کے لیے فیصلے کرتے ہیں اس لئے وہ نہیں سمجھتے کہ کیا غلط ہوا اور کیوں۔

اگر آپ تیسرے درجے سے باہر جانے کے لیے تیار ہیں تو اپنی مالی تعلیم میں سرمایہ کاری کریں اور اپنے پیسوں پر قابو پانا شروع کریں۔ ایک بار جب آپ کسی مشیر کے بجائے اپنے سرمایہ کاری کے فیصلے خود کرنے کے لیے تیار ہوجائیں تو سرمایا کاروں کا درجہ چہارم آپ کے لیے ایک اچھی سطح ہے۔

چوتھا درجہ – پیشہ ور سرمایا کار

بہت کم لوگ اپنے پیسے کو منظم کرنے میں وقت لگاتے ہیں۔ لیکن ایک بار جب آپ ایسا کرنا سیکھ جایں تو آپ پیشہ ور سرمایہ کار بن جاتے ہیں۔ چوتھی سطح پر کامیابی میں کلیدی نقطہ یہ ہے کہ یہاں زندگی بھرسیکھنا جاری رہتا ہے. ایسے سرمایا کارعظیم اساتذہ ، عظیم کوچز اور ہم خیال دوستوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ عظیم استاد یا کوچ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ کوئی آپ سے اوپر کے درجے کا سرمایا کار ہو بلکہ اس سے مراد ہر وہ شخص جو آپ کی رہنمائی کر سکے. اس درجے میں آپ کا رویہ ہمیشہ سیکھنے والا ہونا چاہیے.  پیشہ ور سرمایہ کار  اکثر بہت زیادہ سوالات پوچھتے ہیں اورجوابات تلاش کرتے ہیں.

پیشہ ور سرمایہ کار کئی ٹیکس مشیروں ، وکیلوں ، اسٹاک بروکرز اور رئیل اسٹیٹ ایجنٹوں سے ملتے ہیں. ان سے مشورے لیتے ہیں. ایسے مشیر تلاش کرتے ہیں جو اپنے مشوروں  پر عمل بھی کرتے ہوں. وہ خاص طور پر سرمایہ کاری کے ایسے مشیروں کی تلاش کرتے ہیں جو پیسہ کماتے ہیں۔

بہت زیادہ آمدنی والے ملازمین بھی اکثر پروفیشنل انویسٹر کے زمرے میں آتے ہیں. ایسے سرمایہ کار اپنی زندگیوں کو کنٹرول کرتے ہیں. یہ ملازمت چھوڑنے کا فیصلہ بھی خود کرتے ہیں.  یہ جانتے ہیں کہ ان کی غلطیاں ان کے سیکھنے اور بڑھنے کے مواقع ہیں۔ سرمایہ کاری کا خوف انہیں خوفزدہ نہیں کرتا بلکہ انہیں چیلنج کرتا ہے۔ ایک بار جب آپ سرمایہ کاری کی چوتھی سطح پر پہنچ جاتے ہیں تو آپ ایسے مواقع دیکھنا شروع کردیتے ہیں جو دوسرے نہیں دیکھ رہے ہوتے. آپ میں ناکامی کا خوف نمایاں طور پر کم ہوجاتا ہے اور آپ پرجوش ہو رہے ہوتے ہیں. 

پانچھواں درجہ – سرمایہ دار

پانچویں سطح پر سرمایہ کار بننا دنیا کے اوپری حصے میں رہنے کے مترادف ہے۔ ایسے سرمایا کاروں کے لیے ساری دنیا کھلی ہے. ان کے لئے دنیا میں کوئی سرحد نہیں ہے۔ خوشخبری یہ ہے کہ تیز رفتار ٹیکنالوجی کی اس دنیا میں سرمایہ دار انویسٹر بننا پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو چکا ہے۔

کیپٹلسٹ سرمایہ کار دنیا میں مسائل اور ان کے حل کی تلاش میں رہتے ہیں۔ وہ سرمایہ کار جو مسائل کو حل کرنے میں اچھے ہیں وہ اپنی سرمایا کاری پرلامحدود منافع کما سکتے  ہیں۔ ان کے پاس ایک مضبوط علمی اورمالیاتی بنیاد بھی ہوتی ہے اور وہ سرمایہ کاروں کے طور پر کامیاب ہونے کے لیے ضروری مہارت رکھتے ہیں۔ وہ ان مہارتوں کو ان لوگوں کے مسائل حل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں جن کے پاس ایسی مہارتیں موجود نہیں ہوتیں۔

مثال کے طور پراگر آپ رئیل اسٹیٹ کے بہت بڑے سرمایا دار ہیں تو آپ ان لوگوں کے مسائل کے بارے میں سوچیں جو بڑے رئیل اسٹیٹ منصوبوں کی وجہ سے بے گھر ہو جاتے ہیں یا مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں. آپ ان کے لئے سستے مکانوں کی سکیم لا سکتے ہیں جس میں آپ کوخوب منافع بھی ہو گا.  

پانچویں درجے کے سرمایہ کار اپنی سرمایہ کاری سے اپنی زندگی شاندار طریقے سے تو گزارتے ہیں مگر وہ ان کے لیے بھی کام کرتے ہیں جو اس شاندار زندگی سے محروم ہوتے ہیں. وہ کراؤڈ فنڈنگ اور دیگر سرمایا کاری کی ترغیبوں سے دوسروں کے پیسے کو ہی استعمال کر کے اور اس کی رفتار بڑھا کرنہ صرف اپنی دولت میں بھی تیزی سے اضافہ کرتے ہیں بلکہ دوسروں کی زندگی میں بھی سہولت پیدا کرتے ہیں. اگر آپ اس سطح پر ہیں تو سیکھتے رہیں، معاشرے کو دیتے رہیں اور آگے بڑھتے رہیں.  یاد رکھیں کہ حقیقی سرمایہ دار سخی ہوتے ہیں کیونکہ ایک کامیاب سرمایہ دار اچھی طرح جانتا ہے کہ آپ کو معاشرے سے زیادہ لینے کے لیے معاشرے کو زیادہ دینا چاہیے۔

مزید پڑھیں

انٹرپرینیورشپ میں کون بہتر – جنرلسٹ یا ایکسپرٹس

سرمایا کاروں کی قسمیں” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں