Cost audit 32

لاگت کی جانچ پڑتال (Cost Audit)-وسائل کے بہترین استعمال اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے ناگزیر

صنعتی پیداوار میں لاگت کی جانچ پڑتال کو کاسٹ آڈٹ کہا جاتا ہے. ایسا آڈٹ پیداواری کارکردگی کی تشخیص اوراسے بہتربنانے میں معاون ثابت ہوتا ہے. کاسٹ آڈٹ کی مدد سے پیداواری معیارسے انحرافات اور پوشیدہ نقصانات کی وجوہات کا پتہ لگانے میں مدد ملتی ہے جونہ صرف پیداواری افادیت میں اضافے کا باعث بنتا ہے بلکہ نااہلی اور وسائل کے ضائع ہونے کو بھی روکتا ہے. معیشت میں بہتری کے لئے انتہائی ضروری ہے کے صنعتی وسائل کو زیادہ سے زیادہ بہترین انداز میں استعمال کیا جاۓ اور کم سے کم وسائل کے استعمال سے زیادہ اور معیاری پیداوار حاصل کی جاۓ. صنعتی پیداوار میں لاگت اور وسائل پر مکمل کنٹرول نہ ہونا جہاں ایک طرف کاروباری اداروں کے لئے مالی مشکلات کا مؤجب بنتا ہے وہیں اس کا اثر صارفین کی جیب پر بھی پڑتا ہے. پیداواری اشیا و خدمات کی موثراور درست  کاسٹنگ کا ہونا قیمتوں  کے صحیح تعیّن کے لئے ضروری ہے تا کہ صارفین پر قیمتوں کا جائز بوجھ ڈالا جا سکے. کاسٹ  آڈٹ کے ذریعے حکومت اور صارفین تک مصنوعات کی درست پیداواری لاگت کی معلومات پہنچ سکتی ہیں جس سے ناجائزمنافع خوری جیسے مکروہ عمل کو روکنے میں کافی پیش رفت کی جا سکتی ہے. کاسٹ آڈٹ کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ یہ کوئی تفتیشی یا فرانزک آڈٹ ہے. بلکہ یہ پیداواری استعداد کار کو بڑھانے اور کاروبارمیں درست رپورٹنگ کی ضروریات کو پورا کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے. یہ وسائل کے استعمال میں خامیوں کی نشاندہی کرنے اور انھیں بروقت درست کرنے میں مدد دیتا ہے. 

کاسٹ آڈٹ اور مالیاتی آڈٹ میں فرق (Difference Between Financial Audit and Cost Audit)

کچھ افراد یہ کہ سکتے ہیں کہ ہر کمپنی اپنا مالیاتی آڈٹ کروانے کی پابند ہے اور اپنے مالیاتی کھاتے (Accounts) باقاعدہ پبلش بھی کرتی ہے تو ایسے میں کاسٹ آڈٹ کی کیا ضرورت درپیش ہے. ایسا کہنا درست تو ہے مگر مالیاتی آڈٹ صرف قانون کی تعمیل اورکمپنی کے حصص یافتگان کی رپورٹنگ کی ضروریات پرتوجہ مرکوز رکھتا ہے. اس آڈٹ کا مقصد حصص یافتگان کی دولت میں آنے والی بہتری یا کمی کو رپورٹ کرنا ہوتا ہے. اس کا مقصد کمپنی کی پیداواری کارکردگی کا اندازہ  لگانا نہیں ہوتا. اس میں پیداوار میں اٹھنے والی اضافی لاگت اور پوشیدہ نقصانات کی وجوہات پہ بھی بات نہیں کی جاتی ہے. مالیاتی آڈٹ مالی اعدادوشمار کی اطلاع دہندگی کے لئے کیا جاتا ہے جس میں تجارتی انصاف پسندی کو یقینی بنانے کے لئے فنانشل سٹیٹمنٹس جیسے کہ بیلنس شیٹ (مالی پوزیشن) اورپرافٹ اینڈ لاس (نفع و نقصان) سٹیٹمنٹ کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ اس کے برعکس کاسٹ آڈٹ میں مطلوبہ اشیاء و خدمات کی تیاری پر ہونے والے اخراجات سے متعلق رپورٹس کی جانچ پڑتال اور تصدیق کی جاتی ہے۔

آرٹیکلکاروبار میں لاگت اور اخراجات کو کم کرنے کے 10 طریقے

کاسٹ آڈٹ اور صارفین 

ایک کاسٹ آڈیٹر پیداواری لاگت کے بنیادی عناصر جیسے کے مٹیریل کی کھپت، لیبر کی اجرت، اوردیگر اوورہیڈ اخراجات کا گہرائی میں جائزہ لیتا ہے اور یہ یقینی بناتا ہے ہے کہ کاسٹ اکاؤنٹنگ کہ اصولوں کے مطابق ہی پیداواری لاگت کا حساب لگایا جاۓ. جب لاگت کا حساب درست ہو گا تو یقینی طور پر اس لاگت کی بنیاد پر کیا جانے والا قیمت کا تعین بھی درست ہو گا. کاسٹ آڈٹ کی مدد سے کسی بھی قسم کی خفیہ لاگت کو بھی سامنے لیا جا سکتا ہے جو کہ مصنوعات کی قیمتوں میں ناجائز اضافے کی ایک بڑی وجہ ہو سکتی ہے. اس سے صارفین کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکتا ہے اور ان کی جیبوں پر پڑنے والے اضافی بوجھ کو بھی کم کیا جا سکتا ہے. 

کاسٹ آڈٹ اور صنعتیں

ہماری صنعتوں کو عالمی مسابقت کا سامنا ہے. ایسے میں ضروری ہے کہ پیدواری وسائل (Factors of Production) کے مؤثر استعمال کے چیلنج کا بہترین انداز میں سامنا کیا جاۓ. ایسا کرنا ترقی پذیر ملکوں کی معیشتوں کی ایک اہم ضرورت بھی ہے. کسی بھی صنعت یا معیشت کی بقا اور نشو و نما مسابقتی سبقت (competitiveness) پر ہی منحصر ہے جو کے وسائل کے کم سے کم اور بہترین استعمال کے بغیر ہر گز ممکن نہیں. لہذا لاگت پہ دھیان دینا ہماری صنعتوں کے لیےمسابقتی چیلنجز کا سامنا کرنے میں بہت معاون ثابت ہو سکتا ہے. ہمیں دنیا میں نہ صرف مصنوعات کی کوالٹی کا مقابلہ کرنا ہے بلکہ قیمتوں پر بھی مناسب کنٹرول رکھنا ہے تا کہ نہ صرف ہماری صنعتیں استحکام حاصل کر سکیں بلکہ صارفین کی ضروریات کو میعاری انداز میں اور کم داموں میں پورا کرنے میں اپنا نام بھی پیدا کر سکیں.

آرٹیکل: کاروباری سرگرمی, معاشی مسئلہ ،پیداوار اور سیکٹرز

پاکستان میں کاسٹ آڈٹ

برصغیر میں کاسٹ آڈٹ پریکٹس 1967 میں اختیار کی گئی تھی. پاکستان میں آج کچھ صنعتوں میں کاسٹ آڈٹ کے قواعد و ضوابط لاگو ہیں. ان صنعتوں میں سیمنٹ، شوگر، آئل اینڈ گھی، کیمیائی کھاد، پولیسٹر فائبر، پٹرولیم ریفائنری، تھرمل انرجی، اور قدرتی گیس کے شعبے شامل ہیں. مگر یقینی طور پر ان قواعد و ضوابط پہ عمل درآمد کو فعال بنانے کی ضرورت ہے. 

مگراس کے ساتھ ساتھ  ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ تمام انڈسٹری کو کاسٹ آڈٹ کہ زمرے میں لایا جاۓ اور حکومت اس حوالے سے کاسٹ آڈٹ کو یقینی بنانے اور فعال بنے کے لئے ضروری قانون سازی کرے. فنانشل اکاؤنٹس کی طرح کاسٹ اکاؤنٹس اینڈ آڈٹ رپورٹس کی پبلشنگ کو بھی ضروری قرار دیا جاۓ تا کے حکومت اور صارفین تک مصنوعات یا خدمات کی درست معلومات پہنچ سکیں. 

پاکستانی صنعتکاروں کو بھی اس بات کا ادراک کرنا ہو گا کہ آج کے شدید معاشی حالات میں ان کی بقا کا دارومدار بھی وسائل کے بہترین استعمال اور صارفین کے مفادات کے تحفظ میں ہی پوشیدہ ہے. بہترین کاسٹ اکاؤنٹنگ پریکٹسز اور کاسٹنگ آڈٹ ایسے انتظامی ٹول ہیں جن کی مدد سے آپریشنل لاگت کے بارے میں واضح تفہیم حاصل کی جا سکتی ہے اور فیصلہ سازی کے عمل میں بہتری لائی جا سکتی ہے. کاروباری حضرات کاسٹ آڈٹ کے ذریعے چند ایک درج ذیل ضروری فوائد حاصل کر سکتے ہیں. 

قیمتوں کے کافی یا ناکافی ہونے یا درست تعین میں مدد حاصل کرنا.  

کاسٹ آڈٹ ایسی سرگرمیوں، ڈیپارٹمنٹس، مصنوعات، اور منصوبوں کو افشا کرنے میں مدد دیتا ہے جوزیادہ منافع یا زیادہ نقصان کا باعث ہوں. 

کاسٹ آڈٹ پیداواری ضروریات کے حساب کے مطابق اسٹاک (inventory) اشیا کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے. 

اس کی مدد  سے تیار شدہ مصنوعات، ان پراسیس (in-process) مصنوعات، یا خام مال کی درست valuationمیں مدد ملتی ہے. 5. یہ ایسا فیصلہ کرنے میں بھی مدد دیتا ہے کہ پیدوار میں استعمال ہونے والے مختلف پارٹس فیکٹری میں تیار کرنا سودمند رہے گا یا باہر سے خریدنا. 

اس سے مدد ملتی ہے کہ انتظامیہ صرف ان اخراجات پر فوکس کرے جن کو کم یا ختم کیا جاسکتا ہے.

یہ مختلف ادوار یا مہینوں میں پیداواری لاگت کا موازنہ کرنے میں مدد دیتا ہے اور اس کے مطابق قیمتوں میں ردوبدل کا موقع دیتا ہے. 

صارفین کے حقوق کا تحفظ، گاہکوں کی تسلی، قوانین کی پاسداری، جائز منافع کے حصول اور طویل مدتی کاروباری ترقی میں معاون ثابت ہوتا ہے. 

آرٹیکلپیداواری وسائل اور مواقعوں کی لاگت

ملکی معیشت کو فوائد

کاسٹ آڈٹ ملکی معاشی وسائل کے بہترین استعمال کو یقینی بناتا ہے اور انھیں ضائع ہونے سے بچاتا ہے. 

صنعتوں میں معاشی مسابقت لاتا ہے

صارفین کے معاشی استحصال کو روکتا ہے

اشیا و خدمات کی لاگتوں اور افراط زر میں کمی لاتا ہے 

حکومت کو ناجائز منافع خوری کو روکنے اور پرائس کنٹرول میں مدد دیتا ہے 

معاشی کارکردگی میں استحکام لاتا ہے. 

کارکردگی کا بیرومیٹر ہونے کے علاوہ کاسٹ آڈٹ بنیادی طور پر ایک روک تھام کرنے والا اقدام ہے. اس کے علاوہ مینجمنٹ پالیسی اور فیصلہ سازی  کے لئے یہ ایک رہنما کا کردار ادا کرتا ہے. کاسٹ اکاؤنٹنگ یا کاسٹ آڈٹ ایک انتہائی پروفیشنل کام ہے جس کے لیے صنعتوں کو ایکسپرٹس کی ضرورت پڑتی ہے. اس ضمن میں باقی دنیا کی طرح پاکستان میں بھی انڈسٹری کی معاونت کے لئے باقاعدہ ادارہ قائم کیا گیا ہے جس کا مقصد عالمی معیارات کے مطابق تعلیم و تربیت کے ذریعے کاسٹ اکاؤنٹنگ ایکسپرٹس تیار کرنا ہے. یہ ادارہ انسٹیٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس (ICMAPakistan) کے نام سے موجود ہے جس کی شاخیں تمام بڑے شہروں میں پائی جاتی ہیں. یہ ادارہ اپنے شعبے میں جدت اور عالمی معیارکے مطابق ایک انتہائی منظم اور پروفیشنل تدریسی  و امتحانی نظام کے تحت طلبا و طالبات کو تعلیم و تربیت مہیا کرتا ہے جوپاس آوٹ ہونے کے بعد تقریبا ہر انڈسٹری میں بہترین خدمات فراہم کرتے ہیں. مگر موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے مناسب قانون سازی کے ذریعے اس ادارے کے کردار کو مزید تقویت دینے کی ضرورت ہے تا کہ نہ صرف ملکی معاشی وسائل کا بہترین استعمال کیا جا سکے بلکہ بڑھتی مہنگائی اور ناجائز منافع خوری جیسے عوامل کا بھی سدباب کیا جا سکے.

مزید پڑھیں

ٹیکس کے نظام کی بنیادی معلومات

گھریلو خواتین کے لیے 20 سے زائد کاروبار کے آئیڈیاز

لاگت کی جانچ پڑتال (Cost Audit)-وسائل کے بہترین استعمال اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے ناگزیر” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں