university education or vocational education 35

اعلی تعلیم یا پیشہ ورانہ تربیت – کونسا انتخاب بہترہے؟

پیشہ ورانہ تربیت کے نصاب دنیا بھر میں مقبولیت حاصل  کر رہے ہیں۔ کیا موجودہ معاشی فضا میں ایسا نہیں لگتا ہے کہ تربیت یا ہنر پر مبنی کورسز کرنا یونیورسٹی کی تعلیم کی نسبت روزگار کا بہتر راستہ ہوسکتے ہیں؟

یہ ویڈیو یو ٹیوب پہ دیکھنے کے لیے کلک کریں

موجودہ پریشان کن معاشی ماحول میں خاص طور پر نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع انتہائی محدود ہو چکے ہیں۔ اس طرح اب یہ فیصلہ کرنا کہ  جب آپ اسکول یا کالج کی تعلیم سے فارغ ہوں تو آگے کیا کرنا چاہیے آج کے نوجوانوں کے لئے مزید دباؤکا باعث بن چکا ہے – کیا جلدی برسرروزگارہونا یونیورسٹی کی ڈگری کے ذریعے ممکن ہے یا اس کے لئے  کوئی پیشہ ورانہ تربیت حاصل کرنا بہتر آپشن ہے؟

عمومی طور پر ایک محفوظ اور اچھی تنخواہ والی نوکری کے خواہاں طلباء نوجوانوں کے لئے یونیورسٹی کی ڈگری کوایک  بہترین آپشن سمجھا جاتا ہے لیکن حالیہ برسوں میں اس طرز عمل میں تبدیلی آنے لگی ہے۔ ہر سال یونیورسٹی سے نئے فارغ التحصیل ہونے والے نوجوانوں کے لئے فوری روزگار کے مواقع پہلے کی نسبت مخدوش ہو چکے ہیں. لہذا اب یونورسٹی کی ڈگری روزگار اور کامیابی کی ضمانت نہیں ہے۔

آرٹیکلکاروباری ادارے اور ان کی اقسام

یونیورسٹیوں کی بڑھتی ہوئی ٹیوشن فیسوں نے تعلیمی سود یا بلاسود قرضوں میں بھی بے حد اضافہ کر دیا ہے. اس کا مطلب یہ ہے کہ فارغ التحصیل ہونے کے بعد ملازمت ڈھونڈنے والے بھی بہت سارے قرضوں کی زد میں رہتے ہیں جن کی ادائیگی میں سالوں لگتے ہیں۔ ان معاشی تبدیلیوں کی وجہ سے بہت سارے نوجوانوں میں یونیورسٹی کی ڈگری حاصل کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کے رجحان میں اضافہ ہو چکا ہے. وہ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا واقعی ان کے محفوظ اور بہترمعاشی مستقبل کے لئے  یونیورسٹی کی تعلیم بہترین انتخاب ہے۔ اس لئے ملازمتوں کی مارکیٹ میں راستے تلاش کرنے کے لئے اب بہت سارے دوسرے امکانات کو بھی دیکھا جا رہا ہے. 

یہ رجحان صرف ملازمتوں کے حصول میں ہی نہیں بلکہ اب اکثرآجروں نے بھی بہت سے معاملات میں یونیورسٹی کی ڈگریوں سے باہردیکھنا شروع کر دیا ہے . اب واضح طور پرنئے افراد کی بھرتی کرتے وقت تعلیمی قابلیت کے بجائے کام کی جگہ کے تجربے اور تربیت پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔

2012 میں کیے گنے ایک سروے میں بتایا گیا ہے کہ پانچ میں سے ایک آجر اسکول چھوڑنے والوں کو یونیورسٹی گریجویٹس پر ترجیح دیتا ہے۔ سروے میں حصہ لینے والے متعدد آجروں کا کہنا تھا کہ انہیں لگتا ہے کہ یونیورسٹی فارغ التحصیل نوجوان اکثر غیر حقیقی توقعات کے ساتھ جاب مارکیٹ کا رخ کرتے ہیں. اس لیے ان کو کام کی حقیقی دنیا میں ایڈجسٹ کرنا مشکل محسوس ہوتا ہے۔ دوسری طرف اسکول یا کالج  چھوڑنے والے زیادہ کام کرنے اور عملی کردار ادا کرنے میں زیادہ اہلیت رکھتے تھے۔

آرٹیکلبچوں میں فنانشل لٹریسی اور منی مینجمنٹ کی تعلیم

یونیورسٹی کو ایک طرف رکھ کراگر دیکھا جاۓ تو ایسے نوجوان افراد کے لئے اور کیا آپشنز ہیں جویونورسٹی جوائن کرنے سے پہلے ملازمت کا حصول چاہتے ہیں؟سب سے مشہورآپشنز میں سے ایک یہ ہے کہ کسی قسم کی پیشہ ورانہ تربیت (ووکیشنل ٹریننگ) حاصل کی جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نوجوانوں کو کسی خاص کردار میں کام کے لیے تیارکیا جاۓ. مگر تربیتی پیشے (vocation) کے انتخاب میں احتیاط سے کام لینا انتہائی ضروری ہے کیوں کہ ایک نقصان بھی ہوسکتا ہے کہ اگر آپ کسی ایسے شعبے کی تربیت حاصل کریں جس میں روزگار کے بہت کم مواقع ہوں اور آپ کی مہارتوں کی زیادہ طلب نہ ہو۔

لہذا یہ بہت ضروری ہے کہ کوئی بھی پیشہ ورانہ کورس کا آغاز کرنے سے پہلے کچھ تحقیق کی جاۓ  کہ آیا اس کی تربیت کے اختتام پر اچھے روزگار کا حقیقی موقع ملے گا یا نہیں تاکہ غیر اہم مہارت حاصل کرنے میں وقت اور رقم ضائع نہ ہو۔

فی الحال سب سے مشہور پیشہ ورانہ کورسز میں کمپیوٹر اور آئی ٹی سے متعلقہ بیشمار سکلڈ کورسز ہیں. اس کے علاوہ انجینرنگ سپورٹ کے شعبوں میں بھی کافی شارٹ  پیشہ وارن تربیتی کورسز موجود ہیں. خاص طور پرایسے کورسز یونیورسٹی کی فیسوں کی قیمت کے مقابلے میں سستے بھی ہیں اور نسبتاً کم عرصے میں مکمل ہونے کے بعد ملازمت کا بھی قوی امکان پیش کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں آئی ٹی اور انجینرنگ کے شعبے میں ان لوگوں کے لئے ڈھیر ساری ملازمتیں چل رہی ہیں جو ان شعبوں میں ے تربیت حاصل کرنے اورسخت محنت کرنے کے لئے تیار ہیں۔

پیشہ ورانہ اور مہارتوں پر مبنی تربیتی نصاب یا کورسز کا اگلے چند سالوں یا دہایوں میں مقبولیت میں اضافے کا امکان ہے کیوں کہ نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ یونیورسٹی کی تعلیم ان کے معاشی مستقبل کے لئے ضمانت نہیں ہے۔ اگر معیشت کساد بازاری کی لپیٹ میں ہے تو پھر یہ بہتر ہے کہ نوجوانوں میں مہارتوں کے فروغ  کے لئے تربیتی کورسزمیں زیادہ سے زیادہ سرمایاکاری کی جاۓ تا کہ باصلاحیت نوجوان جلد کیریئر کی سیڑھی پر اپنا پہلا قدم رکھ سکیں اور قوموں کی معاشی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں. 

اس ضمن میں پالیسی سازوں کو کچھ اہم فیصلے کرنے کی بھی ضرورت ہے. جیسا کہ اسکول کی تعلیم کے بعد کچھ عرصے کی پیشہ وارانہ تربیت کو لازمی قرار دیا جاۓ. یونیورسٹی کی تعلیم ایسے تربیتی کورسز کے بعد بھی جاری رکھی جا سکتی ہے. اس حوالے سے والدین کا کردار بھی بہت اہم ہے کہ اگر بچے میں یونیورسٹی کی تعلیم کا رجحان نہیں پایا جاتا تواسے کسی بہتر شعبے میں تربیتی کورس کی طرف راغب کیا جاۓ. اس سلسلے میں اسکول اور کالج لیول پہ کیریئر کونسلنگ جیسے اہم کاموں کا آغاز ہونا بھی ایک لازمی عنصر ہے تا کہ نوجوانوں کو ان کی طبیعت اور شوق کے مطابق رہنمائی فراہم کی جا سکے. 

مزید پڑھیں

سیفٹی پروفیشن- تربیتی اور کاروباری نقطہ نظر سے

گھریلو خواتین کے لیے 20 سے زائد کاروبار کے آئیڈیاز

3 تبصرے “اعلی تعلیم یا پیشہ ورانہ تربیت – کونسا انتخاب بہترہے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں