business model

بزنس ماڈل سے کیا مراد ہے

ایک بزنس ماڈل سے مراد وہ خاکہ ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ایک کاروبار کس طرح سے مخصوص مارکیٹ میں اپنی مصنوعات یا خدمات کے ذریعے گاہکوں سے رقم کماتا ہے یا کما سکتا ہے.

کاروباری ماڈل نئے اور قائم شدہ دونوں کاروباروں کے لیے اہم ہیں۔ یہ سرمایہ کاری کو راغب کرنے، ٹیلنٹ کو بھرتی کرنے، اور انتظامیہ اور عملے کی حوصلہ افزائی کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ قائم شدہ کاروباروں کو اپنے بزنس ماڈل کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کرنا چاہیے ورنہ ان کے لیے آنے والے رجحانات اور چیلنجوں کا اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔  بزنس ماڈل بنیادی طور پر چار سوالوں کے جواب دیتا ہے حو کہ درج ذیل ہیں.

آرٹیکل9 مراحل میں ایک نیا کاروبار کیسے شروع کریں

1 – کاروبار کے ذریعے کونسی اشیاء و خدمات بیچی جایں گی؟

2 – کاروبار کے ذریعے مصنوعات یا خدمات کو مارکیٹ کیسے کیا جاے گا؟

3 – کاروبار کو اس سلسلے میں کس طرح کے اخراجات برداشت کرنا پڑیں گے؟

4 – کاروبار کو آمدنی کیسے وصول ہو گی اور اپنی آمدنی کو منافع میں کیسے بدلے گا؟

بزنس ماڈلز وقت کے ساتھ ساتھ اپنی نوعیت بدلتے رہتے ہیں.  کامیاب ماڈلز وہی ہوتے ہیں جن میں ضرورت کے تحت بہتر تبدیلیاں کی جاسکیں. لیکن ہر کامیاب بزنس ماڈل کے بنیادی خدوخال ایک جیسے ہی ہوتے ہیں جو کہ درج ذیل ہیں. 

– کاروباری مصنوعات یا خدمات کی ایسی خوبی جو انہیں گاہکوں کے لیے پرکشش بناے.

– صارفین کے ایک مخصوص گروپ کی پہچان جو کاروباری مصنوعات میں دلچسپی لے.

– کاروباری مصنوعات یا خدمات کی کم از کم ایک انوکھی خصوصیت جسے حریف آسانی سے نقل نہ کر سکیں.

– مقررہ (fixed) اور متغیر (variable) اخراجات کی پہچان اور فہرست کی تیاری.  اس کے علاوہ قیمتوں کو متاثر کرنے میں دونوں قسم کے اخراجات کے کردار کا درست اندازہ.

– کاروبار کے جسمانی,  مالی اور فکری اثاثوں کی درست پہچان اور موثر استعمال کی منصوبہ بندی.

– گاہکوں کے مساہل اور ان کے حل میں کاروباری مصنوعات یا خدمات کا کردار.

– آمدنی کے سلسلے یعنی سیلز بڑھانے کے مواقعوں اور طریقوں کی پہچان.

– آمدنی کا اخراجات سے زیادہ ہونا اور منافع کا حصول واضح ہونا.

– کارکردگی اور کامیابی جانچنے کے معیارات کا تعین ہونا.

اگر آپ کچھ وقت اور توجہ صرف کر کے اپنے بزنس ماڈل کا ایک خاکہ تیار کرتے ہیں اور ضرورت کے مطابق اس میں تبدیلیاں کرتے ہیں تو آپ مستقبل کی کامیابی کے لیے اہم بنیاد رکھ رہے ہوتے ہیں. 

اختراعی (نئے اور جدت پر مبنی) کاروباری ماڈلز کے ساتھ سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ان کی اکثر تقلید کی جاتی ہے. بعض اوقات فوراً اور بعض اوقات ذرا در سے. لیکن تقریبا ہر کاروباری ماڈل ہی کاپی یا چوری کر لیا جاتا ہے. پیٹنٹ کے حقوق کے ذریعے کاروباری ماڈل کو نقل سے مکمل طور پر بچانا ناممکن ہے، لیکن کچھ ایسے اقدامات ہیں جو دوسروں کو نقل کرنے سے روکنے کے لیے کیے جا سکتے ہیں۔

1. کاروباری ماڈل کے نفاذ میں ایسے نظام، عمل اور اثاثے شامل ہونے چاہئیں جن کی نقل تیار کرنا مشکل ہو۔

2. دھندلاپن کی ایک خاص سطح ہونی چاہیے جس سے باہر کے لوگوں کے لیے کاروباری ماڈل کو کیسے لاگو کیا جاتا ہے اس کی تفصیلات کو سمجھنا مشکل ہو جائے۔

3. بڑے حریفوں کے لیے آپ کے نئے کاروباری ماڈل کو اختیار کرنے سے ان کے موجودہ اہم کاروباری معاملات یا تعلقات میں بڑا خلل پڑتا ہو۔ تا کہ وہ کاپی کرنے سے باز رہیں. 

مزید پڑھیں

سرمایا کاروں کی قسمیں

گھریلو خواتین کے لیے 20 سے زائد کاروبار کے آئیڈیاز